Be My Member

Friday, August 14, 2015

Money earning link tsu.co/Gunpal

چودہ اگست 1947 آزاد پاکستان
کلمہ کے نام پر حاصل کی گئی آزادی

کیا اس دن انگریز اور ھندو سے ھم نے آزادی حاصل کی
یا
ان دونوں سے بدتر انھی کی باقیات کرپٹ مافیا وڈیرہ شاھی اور کیپیٹلسٹ یعنی
سرمایہ دارانہ نظام کا طوق غلامی آنے والی نسلوں تک ھمارے گلوں میں ڈال دیا گیا۔

یقینا" قائد اعظم اگر آزادی سے پہلے یہ جان جاتے کہ آنے والی نسلیں انگریز راج سے بدتر حالات دیکھیں گی تو وہ پاکستان کو بخوشی انگریزوں کو پٹے (لیز) پر دینا پسند کرتے۔

کم از کم اتنا تو ضرور ھوتا کہ ھمیں ملکہ برطانیہ کے ایک شیطانی گورا راج کی ھی غلامی نصیب ھوتی نہ کہ نئے بننے والے چھو سو خاندوانوں کے شیطانی راج کے پاکستان کی کبھی نہ ختم ھونے والی غلامی ھمارا مقدر بنتی۔


اگر جناح کو پتہ ھوتا کہ ھم کلمہ کے نام پہ آزاد پاکستانی کلمہ کے تقدس کو بھول کر ایک اللہ ایک رسولﷺ اور ایک قران کو بھول کر  بہتر سے  زیادہ فرقوں میں
بٹ کر ایک دوسرے  کو کفر کی پرچیاں بانٹے پھریں گے۔

 ھر گلی محلہ میں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ فقہ کی مسجد بنا ڈالیں گے تو تو محمد علی جناح ھمیں
آزادی دینے کی بجائے کسی شمشان گھاٹ میں جلوا کر راکھ گنگا میں بہا دیتا۔



مِہر کو سمجھ نھیں آ رھی کہ پاکستانیوں کو قوم پاکستان کہوں  یا ھجوم غلامستان کہوں۔

آزادی مبارک کہوں
یا غلامی مبارک کہوں۔


اے جناحؒ کیسے ملت پہ دن آ گئے
راہبر اُٹھ گئے  راہزن   آ گئے
 کیسے دیکھوں میں بکتے مِہرکی گلی
نوٹِ رشوت پہ تصویر تیری  چلی
ہے ھجومٍ جہاں پر یہ  ملت کہاں
عدل بکتے ہیں تیری زمیں پہ جہاں
کالے چہروں کے کالے یہ دَھن  آ گئے
راہبر اُٹھ گئے  راہزن   آ گئے


بہر حال مِہر آج گندی پوٹلی کھول کر پاکستانیوں کی طبع نازک خراب نھیں کرنا چاھتا۔  اس کے لیے ایک نھیں ھزاروں سال تک نرگس کو اپنی بے نوری پر رونا پڑے گا ۔

اب میں اور کیا منہ کھولوں کہ ھماری پست علمی و پست ذھنی کا یہ عالم ھے کہ نرگس کا مطلب ھمارے کاغزوں میں  صرف ٹھمکے پہ ناچنے والی تھیٹر کی ھی نرگس ھوتی ھے۔

اس لیے باقی کا کنجر خانہ میں آنے والے کالموں میں چلاتا رھوں گا۔

فی الحال صرف بانی پاکستان کے ان گمنام گوشوں پہ ٹارچ لائیٹ ماروں گا جن کے  بارے ھم نے کم کم ھی سن رکھا ھے۔

محمد علی جناح

قائد اعظم محمد علی پیدائش 25 دسمبر 1876ء
وفات 11 ستمبر 1948ء


تو باب ء آزادی تو باب ء پاکستان
تو نوائے حق، تو نوائے جسم و جان

اے بانی ء پاکستان
تیرا احسان، تیرا احسان

ایک وکیل، سیاست دان اور آل انڈیا مسلم لیگ کے راہنما تھے

جن کی قیادت میں برِّ صغیر کے مسلمانوں نے نہ صرف برطانیہ سے آزادی حاصل کی، بلکہ تقسیمِ ہند کے ذریعے پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور آپ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔

آپ 25 دسمبر 1876ء کو وزیر مینشن، کراچی، سندھ میں پید اہوئے جوکہ اُس وقت بمبئی کا حصہ تھا۔

آپ کا پیدائشی نام محمد علی جناح بھائی رکھا گیا۔ گوکہ ابتدائی اسکول کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جناح کی تاریخِ پیدائش 20 اکتوبر 1875ء تھی،

لیکن بعد میں جناح نے خود اپنی تاریخِ پیدائش 25 دسمبر 1876ء بتائی۔

آپ اپنے والد پونجا جناح (1857ء-1901ء) کے سات بچوں میں سے سب سے بڑے تھے۔

آپ کے والد گجرات انڈیا کے ایک مالدار تاجر تھے جو کہ جناح کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے کاٹھیاوار سے کراچی منتقل ہو گئے

اُن کے دادا کا نام جناح میگجی تھا جوکہ کاٹھیاوار کی ریاست گوندل میں بھاٹیا نسل سے تعلق رکھتے تھے

۔ابتدائی طور پر یہ گھرانہ ہجرت کرکے ملتان کے نزدیک ساہیوال میں آباد ہوا۔

ذرائع سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جناح کے آباؤ اجداد ساہیوال، پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہندو راجپوت تھے جوکہ بعد میں مسلمان ہوگئے
اب مِہر آپ کو جںاح خاندان کے بارے ایک طائرانہ جائزہ بھی پیش کرتا جائے۔


پونجا گوکولداس مگجی اس خاندان کے بزرگ اور محمد علی جناح اور فاطمہ جناح کے دادا تھے۔

وہ کاٹھیاوار کے رہنے والے تھے اور ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے لیکن بعد میں مسلمان ہو گئے

مٹھی بائی جناح بائی (1857 - 1902) نے جناح بائی پونجا سے شادی کی۔

مٹھی بائی ایک امیر گجراتی شخصیت تھیں۔ انہوں نے گرامز ٹریڈنگ کمپنی سے کاروباری شراکت کی وجہ سے کاٹھیاوار سے کراچی کی طرف ہجرت کی

کیونکہ اس مرافقہ کا ذیلی دفتر کراچی میں تھا۔ وہ محمد علی جناح کی پیدائش سے پہلے ہی کراچی چلے گئے۔

ان کے سات بچے تھے۔
محمد علی جناح
احمد علی جناح
بندے علی جناح
رحمت علی جناح
فاطمہ جناح
شیریں جناح
مریم جناح

ان کے بچوں کے اسلامی نام رکھنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ کاٹھیاوار سے ایک مسلم علاقے میں ہجرت کر کے آئے تھے، اسی وجہ سے انہوں نے اپنے بچوں کے نام بھی مسلمانوں کے اسماء کی طرز پر رکھے ورنہ ان کے اپنے نام اسلامی نہ تھے۔


محمد علی جناح 1876 میں پیدا ھوے۔
پہلی شادی 1892ء میں اپنی والدہ کی خواہش پر اپنی رشتہ دار ایمی بائی جناح سے کی۔

انہوں نے یہ شادی اعلٰی تعلیم کے حصول کے لئے برطانیہ جانے سے پہلے کی۔

تاہم، کچھ مہینوں بعد ایمی بائی رحلت کر گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے 1918ء میں اپنے سے 24 برس کم عمر ایک پارسی خاتون رتن بائی سے شادی کی۔

رتن بائی مشرف بہ اسلام ہو گئیں اور ان کا نام "مریم جناح" رکھا گیا۔ 1919ء میں ان کے ہاں ایک بچی دینا واڈیا کی پیدائش ہوئی


فاطمہ جناح بہن ایک ڈینٹل سرجن، خودنویس اور پاکستان کی مادر ملت تھیں۔

انہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تحریک پاکستان میں حقوق خواتین کو روشناس کرایا۔

ان کے بھائی محمد علی جناح کی وفات کے بعد انہوں نے پاکستانی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے 1965ء میں ایوب خان کے مقابل 1965 انتخابات میں بھی حصہ لیا۔

مگر یاد رھے اس وقت مسلم لیگ کے موجودہ دعوے داروں کے ایک روح رواں صدر ایوب خان نے الیکشن میں بدترین دھاندلی کرائی

نون لیگ کے موجودہ وفاقی وزیر
خرم دستگیر کے والد غلام دستگیر خان نے گجرانوالہ میں ایوب خان کی حمایت میں محترمہ فاطمہ جناح سے انتہائی بُرا سلوک کیا تها ،

غلام دستگیر خان جو کہ ایوب خان کا دست راست تها ، نے محترمہ فاطمہ جناح کے انتخابی نشان لالٹین کو ایک کُتیا کے گلے میں ڈال کر پورے گوجرانوالہ میں پهرایا

اور ساتھ ساتھ کہتے تهے کہ " فاطمہ جناح اپنی الیکشن کمپین چلا رہی ہے""

اس وقت کے تمام اخبارات رسائل اور دستگیر کے بیانات ریکارڈ میں محفوظ ھیں۔

دینا واڈیا محمد علی جناح اور مریم جناح کی بیٹی ہیں جو لندن میں 15 اگست 1919ء کو پیدا ہوئیں۔

دینا نے پارسی بھارتی نیویل واڈیا سے شادی کرنا چاہی تو اس کے والد محمد علی جناح میں اس معاملے میں اختلافات پیدا ہو گئے۔

قائد اعظم بیٹی کو غیر مسلم سے شادی کرنے پر منع کرتے تھے ۔ مگر جب وہ باز نہ آئی تو قائد اعظم نے وصیت جاری کی کہ ان کی وفات پر ان کے جنازے کو بھی وینا واڈیا ھاتھ نا لگاے ۔ اور اپنی باقی زندگی میں قائد نے واڈیا کا منہ نہ دیکھا تھا۔
دینا واڈیا اور نیول واڈیا کا بیٹا۔ وہ ایک بھارتی پارسی کاروباری اور کپڑے کی صنعت کا ایک رئیس آدمی تھا۔ انہوں نے مورین واڈیا سے شادی کی۔


نیس واڈیا پیدائش 1970

نیس واڈیا دینا اور نیویل واڈیا کا بیٹا ہے۔ یہ بھارت میں ایک کامیاب کاروباری آدمی ہے۔

جہانگیر واڈیا

جہانگیر دینا اور نیویل واڈیا کا سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔ اس کا بھی بھارت میں اپنا کاروبار ہے۔

جناح کے خاندان والے شیعہ مذہب کی شاخ کھوجہ شیعہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن جناح بعد میں شیعہ مذہب کی ہی دوسری شاخ اثناء عشری کی جانب مائل ہوگئے۔

ان کی مادری زبان گجراتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ کچھی، سندھی، اردو اور انگریزی بھی بولنے لگے۔

نوجوان جناح ایک بے چین طالبِ علم تھے، جنہوں نے کئی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی۔ کراچی میں سندھ مدرسۃ الاسلام، ممبئی میں گوکل داس تیج پرائمری اسکول اور بالآخر مسیحی تبلیغی سماجی اعلیٰ درجاتی اسکول، کراچی میں آپ زیرِ تعلیم رہے

آپ نے سولہ 16 سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان جامعہ ممبئی سے پاس کیا۔ اسی سال 1892ء میں آپ برطانیہ کی گراہم شپنگ اینڈ ٹریڈنگ کمپنی میں تربیتی پیش نامہ کے لیے گئے،
ایک ایسا تجارتی کام جوکہ پونجا بھائی جناح کے کاروبار سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔

برطانیہ جانے سے پہلے آپ کی والدہ کے دباؤ پر آپ کی شادی آپ کی ایک دور کی رشتہ دار ایمی بائی سے کردی گئی، جوکہ آپ سے دو سال چھوٹی تھیں

تاہم یہ شادی زیادہ عرصے نہ چل سکی کیونکہ آپ کے برطانیہ جانے کے کچھ مہینوں بعد ہی ایمی جناح وفات پا گئیں

لندن جانے کے کچھ عرصہ بعد آپ نے ملازمت چھوڑ دی اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ لے لیا اور 1895ء میں وہاں سے قانون کی ڈگری حاصل کی

19 سال کی عمر میں برطانیہ سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے کم سن ترین ہندوستانی کا اعزاز حاصل کیا

اس کے ساتھ سیاست میں بھی آپ کی دلچسپی بڑھنے لگی اور آپ ہندوستانی سیاستدانوں دادا بھائی ناؤروجی اور سر فیروز شاہ مہتہ سے متاثر ہونے لگے

محمد علی جناح نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز 1906ء میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت سے کیا۔ آپ مسلم ہندو اتحاد کے حامی تھے۔

بعد ازاں آپ نے 1913ء میں آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی شمولیت اختیار کرلی۔ آپ ہی کی کوششوں سے 1916ء میں آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس میں میثاق لکھنؤ ہوا

اور آپ ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلائے۔ 1920ء میں کانگریس سے اختلافات کی وجہ سے آپ نے کانگریس پارٹی چھوڑ دی اور خود کو مسلم لیگ تک محدود کرلیا۔

آپ نے خودمختار ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کی خاطر مشہور چودہ نکات پیش کیے۔

مسلم راہنماؤں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے آپ انڈیا چھوڑ کر برطانیہ چلے گئے۔

بہت سے مسلمان رہنماؤں خصوصاً علامہ اقبال کی کوششوں کی وجہ سے آپ 1934ء میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی۔

جناح 1940ء کی قراردادِ پاکستان (قرار دادِ لاہور) کی روشنی میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست بنام پاکستان بنانے کے لئے مصروفِ عمل ہوگئے

۔1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کی بیشتر نشستوں میں کامیابی حاصل کی اور جناح نے پاکستان کے قیام کے لئے براہ راست جدوجہد کی مہم کا آغاز کردیا۔

مسلم لیگ اور کانگریس کے اتحاد کی تمام تر کوششوں میں ناکامی کے بعد آخر کار برطانیہ کو پاکستان اور بھارت کی آزادی کے مطالبے کو تسلیم کرنا پڑا۔

بحیثیت گورنرجنرل پاکستان، جناح نے لاکھوں پناہ گزینوں کی آبادکاری، ملک کی داخلی و خارجی پالیسی، تحفظ اور معاشی ترقی کے لیے جدوجہد کی۔

آپ نے دیگر ہندوستانی طلبہ کے ساتھ مل کر برطانوی پارلیمنٹ کے انتخابات میں سرگرمی کا مظاہرہ کیا۔

اس کا اثر یہ ہوا کہ جناح وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی آئین ساز خود مختار حکومت کے نظریہ کے حامی ہوتے گئے اور آپ نے ہندوستانیوں کے خلاف برطانوی گوروں کے ہتک آمیز اور امتیازی سلوک کی مذمت کی۔

انگلستان میں قیام کے آخری دنوں میں جناح اپنے والد کے کاروبار کی تباہی کی وجہ سے شدید دباؤ میں آگئے۔ چناںچہ آپ برطانیہ سے واپس آگئے اور ممبئی میں وکالت کا آغاز کیا جہاں آپ جلد ہی نامی گرامی وکیلوں میں شمار ہونے لگے۔

سرفیروز شاہ کے سیاسی مقدمے کی جیت نے آپ کی شہرت و نام کو چار چاند لگا دئیے۔ یہ مقدمہ 1905ء میں ممبئی کی ہائی کورٹ میں دائر ہوا، جس میں جناح نے سر فیروز شاہ کی پیروی کی اور جیت بھی جناح ہی کے حصے میں آئی

جناح نے جنوبی ممبئی میں واقع مالا بار میں ایک گھر تعمیر کروایا جو کہ بعد میں ’’جناح ہاؤس‘‘ کہلایا۔ ایک کامیاب وکیل کے طور پر اُن کے بڑھتی شہرت نے ہندوستان کے معروف رہنما بال گنگا دھر کی توجہ اُن کی جانب مبذول کرائی اور یوں

1905ء میں بال گنگا دھر نے جناح کی خدمات بطور دفاعی مشیرِ قانون حاصل کیں تاکہ وہ اُن پر سلطنتِ برطانیہ کی جانب سے دائر کئے گئے، نقصِ امن کے مقدمے کی پیروی کریں۔

جناح نے اس مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے، اپنے موکل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہندوستانی اگر اپنے ملک میں آزاد اور خود مختار حکومت کے قیام کی بات کرتا ہے تو یہ نقصِ امن یا غداری کے زمرے میں نہیں آتا لیکن اس کے باوجود بال گنگا دھر کو اس مقدمے میں قید با مشقت کی سزا سنائی گئی

ہندوستان واپسی کے بعد جناح صاحب نے ممبئی میں قیام کیا۔ برطانیہ کی سیاسی زندگی سے متعثر ہو کر ان میں اپنے ملک کو بھی اس ہی روش پر بڑھتے ہوئے دیکھنے کی امنگ نمودار ہوئی۔

جناح صاحب ایک آزاد اور خود مختار ہندوستان چاہتے تھے۔ ان کی نظر میں آزادی کا صحیح راستہ قانونی اور آئینی ہتھیاروں کو استعمال کرنا تھا۔

اس لئے انہوں نے اس زمانے کی ان تحریکوں میں شمولیت اختیار کی جن کا فلسفہ ان کے خیالات کے متابق تھا۔ یعنی انڈین نیشنل کانگریس اور ہوم رول لیگ۔

ہندو مسلم مسئلے کے حل کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح
نے مارچ 1929ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں نہرو رپورٹ کے جواب میں اپنے چودہ نکات پیش کیے جو کہ تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔


1940
کے بعد قائد اعظم تپ دق کا شکار ہوئے ،

صرف ان کی بہن فاطمہ جناح اور اس کے قریبی چند لوگ ان کی حالت سے واقف تھے.

1948 میں جناح کی صحت بگڑنا شروع ہوگئی ۔ برطانوی حکومت سے پاکستان کی آزادی کے بعد ان پرذمہ داریوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا تھا ۔

اس دوران بحالی صحت کے لیے انہوں نے کچھ دن زیارت کوئٹہ میں قیام کیا

ان کی بہن فاطمہ جناح کے مطابق ، 1 ستمبر ، 1948 کو ان کی طبعیت مزید بگڑنے لگی، ان کے ناک سے خون کی نکسیر پھوٹی تو ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ مقام ان کے لیے موافق نہيں ،

وہ کراچی میں ہیں رہیں تو بہتر ہے .

قائد اعظم کو کوئٹہ سے کراچی واپس لایا گیا تھا ۔

جناح نے کراچی میں گورنر جنرل کے گھر پر 11 ستمبر ، 1948 پر 10:20am
بجے پاکستان کی آزادی کے صرف ایک سال بعد انتقال فرمایا ۔

اس وقت کے وائسرائے ، لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن ،
نے جناح کے بارے میں بیان دیا تھا کہ

 اسے معلوم ھے جناح شائد مرنے والا ھے اسی لیے اس کے پاکستان بنانے کے عزم میں کوئی لچک باقی نھیں رھی تھی۔



قائداعظم محمدعلی جناح پہلے اسماعیلی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے اسماعیلی مسلک چھوڑ کر اثنائے عشری مسلک اختیارکرلیاتھا۔

جناح نے  1898 ء میں ممبئی کے مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک حلف نامہ جمع کرایا تھا کہ آج سے وہ اورانکی بہن فاطمہ اثنائے عشری مسلک اختیار کر رہے ہیں

جبکہ قائداعظم کاانتقال ہوا توان کی میت کو حاجی کلو نے غسل دیا جو خود بھی خوجہ شیعہ اثنائے عشری تھے.

قائداعظم خوجہ جماعت کے رکن تھے ۔اس کوباقاعدہ چندہ دیتے تھے

۔قائداعظم کی دو بارنماز جنازہ پڑھائی گئی۔ پہلی نماز جنازہ ان کے گھرپر شیعہ عالم دین مولانا انیس الحسنین نے شیعہ عقیدے کے مطابق پڑھائی جبکہ

دوسری نمازجنازہ علامہ شبیراحمدعثمانی نے سنی عقیدہ کے تحت پڑھائی۔

بھول چوک معاف
اللہ تیرا ساتھ

از مِہر لیاقت گنپال